پھول ہم تیرے دلبر رہے

Poet: سمی مرزا By: Sami mirza, Samandri

حالِ غم زار جو کر رہے
موت سے قَبل ہی مر رہے

پا لیا خارِ غم جس نے بھی
دشتِ خلوت میں وہ ڈر رہے

اک گلی شوخ میں گھر سے ہم
چاہ میں تیری باہر رہے

شکر ہے بس کہ خواہش میں تو
پھول ہم تیرے دلبر رہے

قیدِ خلوت میں شب بھر ہمی
اُس کی بانہوں میں اکثر رہے

چکھ لیا جسمِ مرمر حسیں
ہم تو اوروں سے بہتر رہے

تیری آغوشِ دائم میں ہم
جان دنیا سے برتر رہے

خلد سے ہم نکالے ہوئے
تیرے دل میں تو آخر رہے

اُس نگاہِ مُسخّر سے تو
دل میں مس تیغ و خنجر رہے

عشق جنگِ مِداں ہے سَمی
خوف اِس میں نہ ہی سر رہے

Rate it:
Views: 106
15 Feb, 2026
More Sad Poetry