"اعتبار کا مرثیہ"
Poet: DR_ADIL KHAN AUTHER THE CRIPPLED HEALER By: Adil Khan, Islamabadلہجے کی نرمی میں چھپا تھا ریا کا غبار سہ گیا
میں پھر بھی اس تعلق میں اپنا اعتبار سہ گیا
وہ ساتھ تھا تو دھوپ بھی لگتی تھی سایہ دار
وہ دور کیا ہوا، مرا سارا قرار سہ گیا
میں نے جو پوچھا تو ہنسی نے بدل لی گفتگو
سچ کے لبادے میں چھپا جھوٹ کا وقار سہ گیا
کہا کہ “کوئی نہیں” مگر آنکھوں کی داستاں
کسی اور سمت کھل گیا دل کا اسرار سہ گیا
دو چہرے، ایک ہی قصہ—مگر نیتیں جدا جدا
ایک نے “اپنا” کہہ دیا، دوسرا عیار سہ گیا
قریب تھے جو لوگ، وہی تماشہ دیکھتے رہے
میں ٹوٹتا رہا مگر بن کے سوگوار سہ گیا
اس نے دریچے بند کیے، میں نے صدا نہ دی
لفظوں کی پاسبانی میں خود نگہدار سہ گیا
یہاں خلوص بھی قیمت پہ آ کے بکنے لگا
میں اپنی سادگی میں خود ہی خریدار سہ گیا
زمانہ کہتا رہا “بول”—میں نے کہا نہیں
اپنی انا کے ہاتھوں میں میں بھی گرفتار سہ گیا
پھر شہر بھر میں میرے سکوت کا ذکر ہو گیا
میں اپنی ہی کہانی کا اک کردار سہ گیا
رابطے دھند میں گم، نام بھی اجنبی ہوئے
اک نام کے سبب میں ہر نام سے بیزار سہ گیا
(مقطع)
دل نے کہا تھا کہ اب کچھ بھی نہ سہنا پھر عادل
مگر وہ زخم جو اپنوں نے دیے، آزار سہ گیا
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






