پھولوں کا موسم آیا ہے
Poet: Imran Raza By: Syed Imran Raza, sargodhaپھولوں کا موسم آیا ہے آؤ کچھ اہتمام کریں
اس گلشن کو سجانے کا آؤ کچھ انتظام کریں
پھولوں کا موسم ہے بلبل گیت کیوں نہ گائے
بھنورا کیوں نہ اٹھلائے تتلی کیوں نہ اترائے
خوشیاں منانے کا کچھ نہ کچھ تو انتظام کریں
پھولوں کا موسم آیا ہے آؤ کچھ اہتمام کریں
صبا کیوں نہ سرسرائے پتے کیوں نہ شور مچائیں
پرندے کیوں نہ چہچہائیں گلوں پر کیوں نہ شباب آئے
ہر دل کو بہلانے کا کچھ نہ کچھ انتظام کریں
پھولوں کا موسم آیا ہے آؤ کچھ انتظام کریں
بہار آئی ہے کیوں رت سنگھار کرے
ہر منظر کیوں نہ سنور جائے ہر چہرہ پربہار رہے
سوئے جذبوں کی بیداری کا کچھ انتظام کریں
پھولوں کا موسم آیا ہے آؤ کچھ انتظام کریں
جو پھول مرجھا چکے ہیں ان کو پھر سے مہکائیں
اداس چہروں پر پھر سے مسکراہٹیں سجائیں
روٹھے ہوؤں کو منانے کا کوئی انتظام کریں
پھولوں کا موسم آیا ہے آؤ کچھ انتظام کریں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






