پہلی پہلی محبت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillیہ جان تیری عنایتیں ہیں کہ میرے ہر سو محبتیں ہیں
چمن چمن میں نخل نخل میں تیرے ہی دم سے حرارتیں ہیں
تیرے لبوں کی نزاکتوں سے گلاب پاتے ہیں نازنینی
تیرے ہی مژگاں کی جنبشوں سے کھلی کھلی سی یہ کونپلیں ہیں
یہ ہرطرف جو ہے حسن پھیلا تیری نظر کاہے سارا جادو
تیرے ہی ہونے سے سارے بادل تیرے ہی ہونے سے بارشیں ہیں
کرن کرن میں ہے تیری رنگت چمک چمک میں ہے تیرا لہجہ
افق شفق کی یہ ساری لالی تیری حیا کی ہی صورتیں ہیں
جو تو نہ ہو تو کہیں بھی کوئی نہ رنگ پھیلے نہ روپ بکھرے
یہ سارے منظر یہ سارے موسم تیرے سراپے کی گردشیں ہیں
جو تو چلے تو بہار ساری تیرے قدم کا نشان ڈھونڈے
جو تو رکے تو برگ برگ میں کلی کلی میں شرارتیں ہیں
تو میری چاہت تو میری الفت میری محبت کا تو ہی محور
تیرے لئے ہی مجاز سارے تیرے لئے ہی حقیقتیں ہیں
یہ لفظ میرے دمک رہے ہیں تیری ہی یادوں کے جگنوؤں سے
تمہاری باتوں کی چاشنی سے ہی میرے شعروں میں دھڑکنیں ہیں
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






