پہلی پہلی محبت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hill

یہ جان تیری عنایتیں ہیں کہ میرے ہر سو محبتیں ہیں
چمن چمن میں نخل نخل میں تیرے ہی دم سے حرارتیں ہیں

تیرے لبوں کی نزاکتوں سے گلاب پاتے ہیں نازنینی
تیرے ہی مژگاں کی جنبشوں سے کھلی کھلی سی یہ کونپلیں ہیں

یہ ہرطرف جو ہے حسن پھیلا تیری نظر کاہے سارا جادو
تیرے ہی ہونے سے سارے بادل تیرے ہی ہونے سے بارشیں ہیں

کرن کرن میں ہے تیری رنگت چمک چمک میں ہے تیرا لہجہ
افق شفق کی یہ ساری لالی تیری حیا کی ہی صورتیں ہیں

جو تو نہ ہو تو کہیں بھی کوئی نہ رنگ پھیلے نہ روپ بکھرے
یہ سارے منظر یہ سارے موسم تیرے سراپے کی گردشیں ہیں

جو تو چلے تو بہار ساری تیرے قدم کا نشان ڈھونڈے
جو تو رکے تو برگ برگ میں کلی کلی میں شرارتیں ہیں

تو میری چاہت تو میری الفت میری محبت کا تو ہی محور
تیرے لئے ہی مجاز سارے تیرے لئے ہی حقیقتیں ہیں

یہ لفظ میرے دمک رہے ہیں تیری ہی یادوں کے جگنوؤں سے
تمہاری باتوں کی چاشنی سے ہی میرے شعروں میں دھڑکنیں ہیں

Rate it:
Views: 727
10 Jul, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL