پہلے دِل کا محلّہ ڈھانا ہے

Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوال

پہلے دِل کا محلّہ ڈھانا ہے
پھر لہو رو کے مسکرانا ہے

اب تری یاد بس ہمارے ہاں
دن گنوانے کا اک بہانہ ہے

نہیں اب تک یہ فیصلہ ہو سکا
پہلے کس نے کسے بُھلانا ہے

یہ محبت بھی ہے عجب ناٹک
خوں پیئے ایک جگ ہنسانا ہے

ہم سے بڑھ کر وہ کج ادا ہی سہی
انتہاء تک بھی آزمانا ہے

تیری بے ماجرا خموشی سے
ایک پاگل نے غُل مچانا ہے

تیرے در سے رہی امیدِ کرم
جبر کرنا ہے زہر کھانا ہے

ہیں وہ کرتوت کے مرا لاشہ
رند نے بھی نہیں اُٹھانا ہے

کیوں بلا کو تری غرض اُس سے
جس نے کُڑ کُڑ کے مر ہی جانا ہے

سچ بتاؤں کے عشق میرے تئیں
کچھ نہیں، زندگی گنوانا ہے

Rate it:
Views: 503
02 Aug, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL