پیار جسے کہتے ہیں
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Dist. Gujranwala ; Nizwa, Omanدلکش حسین احساس ہے پیار جسے کہتے ہیں
جینے کے لئیے خوشگوار گزرگاہ ہے پیار جسے کہتے ہیں
میں کیسے اس احساس کو الفاظ میں بیان کروں
کسی کے بس میں نہیں جو پیاس ہے پیار جسے کہتے ہیں
بدلا بدلا لتنے لگا سماں مہکنے لگا چمن بھی
پہلے کبھی جو ہوا نہیں خمار ایسا چھانے لگا مجھ پر
عجب سی بے قراری ہے دل پھر بھی شاد ہے
کیسی انوکھی کیفیت لئیے ہے پیار جسے کہتے ہیں
دن ہیں وہی راتیں بھی ہیں پہلے جیسی
رات ہو گئی ہے مخمور صبح بھی ہے مسرور سی
آنکھوں میں سنہری یاد ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری ہے
دل کا موسم کس قدر تبدیل کر دیتا ہے پیار جسے کہتے ہیں
چاہت کا احساس لئیے اب مہک سا جاتا ہے میں
شام و سحر انتطار سہوں پھر بھی کھل سا جاتا ہے میں
پروانوں سا مچلوں آوارہ پرندوں سا جھوموں
فاصلے مٹا کر قربتیں دلا جاتا ہے پیار جسے کہتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






