پیار کرتے رہو
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIپیار کرتے رہو
سب کی سنتے رہو
پیار کرتے رہو
اور کچھ نہ کہو
چاہے بولے نہ وہ
سر سے کھیلے نہ وہ
آنکھ کھولے نہ وہ
دل الگ بات ہے
اپنے لہجہ میں بھی
پیار گھولے نہ وہ
اپنا جو فرض ہے
اس طرح ہو ادا
جیسے کہ قرض ہے
اُس کی سنتے رہو
پیار کرتے رہو
اور کچھ نہ کہو
بے خیالی میں ہی
!لب اگر کھل گئے
اور زباں پر مری
!!کوئی سچ آ گیا
یوں سمجھ لو کہ پھر
درمیاں جو بھی تھا
خواب دیکھے تھے جو
خاک میں مل گئے
ایسا کرنا نہیں
کچھ بھی کہنا نہیں
بھائی لڑنا نہیں
مسئلے جتنے ہیں
ہیں سفید و سیاہ
مسئلوں میں کبھی
رنگ بھرنا نہیں
پیار کتنا بھی ہو
دل کو اقرار ہو
کہتی ہے یہ انا
اب تو ملنا نہیں
فاصلہ کچھ رکھو
پیار کرتے رہو
اور کچھ نہ کہو
راستہ ایک ہے
مدعا ایک ہے
تیرا میرا تو کیا
ساری دنیا کا ہی
سلسلہ ایک ہے
ایک آئے تھے ہم
ایک آئے تھے تم
ایک ہے یہ سفر
بھیڑ کتنی بھی ہو
اپنی اپنی جگہ
ہر کوئی ایک ہے
نام ہیں گو جدا
پر خدا ایک ہے
بس خدا کی طرح
سب کی سنتے رہو
پیار کرتے رہو
اور کچھ نہ کہو
کہنے سننے سے تو
کچھ بدلتا نہیں
کوئی ملتا نہیں
رات جاتی نہیں
دن ٹہرتا نہیں
ہونے والا ہے کیا
!یہ پتہ ہی نہیں
وقت کم ہے بہت
کچھ کرو نہ کرو
پیار کرتے رہو
اور کچھ نہ کہو
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






