پیار کی باتیں
Poet: Ajaz Hanif Ajiz By: Ajaz Hanif Ajiz, Karachiتیرے دل میں ہیں چھپی اقرار کی باتیں
تیرے ہونٹوں پہ ہیں رکی اظہار کی باتیں
چاہت ہوں میں تیری یہ مجھے معلوم ہے
پھر بھی کیوں ہیں یہ بے کار کی باتیں
اٹھتے بیٹھتےسوتے جاگتے شام و سحر
کرتے ہیں بس ہم سرکار کی باتیں
پیار میں حد سے گزر جائیں گے
تو بھی کرے اگر پیار کی با تیں
اختیار ہے تجھ کو بوس و کنار کا
لگ جا گلے نہ کر انکار کی باتیں
کچھ ایسا ہو کہ مٹ جائیں فاصلے
ہم تم نہ کریں انتظار کی باتیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






