چھپ چھپ کے پیار
Poet: Ajaz Hanif Ajiz By: Ajaz Hanif Ajiz, karachiچھپ چھپ کے میں کسی کا دیدار کرتا ہوں
اک ایسی لڑکی ہے جسے میں پیار کرتا ہوں
اپنی زندگی کا بنا کے خدا اس کو
سجدہ میں اسے بار بار کرتا ہوں
دریا کے کنارے گھنے پیڑوں کے نیچے
سارا دن میں اس کا انتظار کرتا ہوں
من کے دریا میں ڈوب کے تیرنا
وہ چاہتے ہیں اور میں انکار کرتا ہوں
کچھ بھی بول دیں وہ میں جنون میں
ان کی ہر بات کا اعتبار کرتا ہوں
جن کی خوبصورتی پہ رشک کرتا ہے قمر
ان کے حسن سے عاجز خمار کرتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






