پیار کی خوشبو

Poet: Wasim Ahmad Moghal By: Wasim Ahmad Moghal, Lahore

چھپتی ہے چھپانے سے کہیں پیار کی خوشبو
سانسوں سے بھی آنے لگی اب یار کی خوشبو

ہم بھول گئے تیری محبت میں ہر اک بات
پر یاد ہے ہم کو ترے اقرار کی خوشبو

یہ شہرِ وفا ہےتمہیں ہر گھر سے ملے گی
احساس کی اخلاص کی ایثار کی خوشبو

تلخی کے سوا اُس نے یہاں کچھ نہیں پایا
جس کو نہ ملی شربتِ دیدار کی خوشبو

ہر روز جہاں چڑھتی تھیں امید کی بیلیں
ہے یاد ابھی تک تری دیوار کی خوشبو

جوخار چبھو یا تھا مجھے تو نے اے جاناں
ہے پھول سے بڑھ کر مجھے اُس خار کی خوشبو

لے آئے پکڑ کر سرِ بازار ہمیں بھی
کیا دیکھیں گے ہم مصر کے بازار کی خوشبو

آتے ہیں معطر سے خیالات ہمیں بھی
روشن ہوئی جب سے ترے افکار کی خوشبو

صحرا سے پلٹ کر اُسے آنا ہی نہیں تھا
واں جس کو ملی لذتِ آزار کی خوشبو

آسیب زدہ شہر کو اِک چپ سی لگی ہے
دیکھو تو کہیں ہے لبِ اظہار کی خوشبو

بارود کی بو نے کیا برباد سبھی کو
ڈھونڈے سے بھی ملتی نہیں گلزار کی خوشبو

نادیدہ سا اِک خوف ہے چھایا ہوا سب پر
اپنوں سے بھی ملتی نہیں گفتار کی خوشبو

جب دین سے رکھا ہی نہیں واسطہ ہم نے
پھرآئے کہاں سے یہاں کردار کی خوشبو

اب کون سخن فہم ہے اس شہر میں یارو
میں کس لئے بانٹوں یہاں اشعار کی خوشبو
 

Rate it:
Views: 1390
15 Jun, 2020
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL