پیتم رنگ چڑھا رکھا ہے

Poet: توقیر اعجاز دیپک By: ناظم علی, Gujrat

پیتم رنگ چڑھا رکھا ہے
اپنا آپ مٹا رکھا ہے

تو جس ٹھور پہ ملنے آیا
مندر وہاں بنا رکھا ہے

تیری فرقت کی اگنی نے
تن من مرا جلا رکھا ہے

دیوار و در اور چھتوں پر
تیرا نقش بنا رکھا ہے

درشن کے پرساد کو تو نے
اکھیوں کو ترسا رکھا ہے

دیوالی کی روشن شب نے
تیرا روپ چرا رکھا ہے

جس مٹی پر تو ٹہلا تھا
صندل وہاں اگا رکھا ہے

تیرے پریم کا اپنے ماتھے
میں نے تِلَک لگا رکھا ہے

جس کی لو میں تو بیٹھا تھا
دیپ وَہی سلگا رکھا ہے

تیری نارنجی چنری کو
تن کی شال بنا رکھا ہے

راماین کے طاق میں تیرا
اِک اِک پَتر چھپا رکھا ہے

تیرے سندیسے پڑھ پڑھ کے
میں نے بھَجن بنا رکھا ہے

سَرَسوَتی کے شبھ ہاتھوں میں
تیرا قلم تھما رکھا ہے

افرودیتی کے پہلو میں
تجھ سا صنم سجا رکھا ہے

ہر صورت میں تو ہی تو ہے
تجھ میں ایسا کیا رکھا ہے

Rate it:
Views: 258
21 Oct, 2024
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL