پینے دیا مُجھے

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہ

مرنے دیا مُجھے، نہ ہی جِینے دِیا مُجھے
بانٹا تھا جِس کا، درد اُسی نے دِیا مُجھے

میں جِس مقام پر تھا وہِیں پر کھڑا رہا
لُوٹا مُجھے کِسی نے، کِسی نے دِیا مُجھے

فصلِ خُلوص بو کے تو دیکھو مِرے عزِیزِ
مَیں نے دِیا ہے سبکو، سبھی نے دِیا مُجھے

مُجھ کو عزِیز یہ ہے، اِسے مَیں عزِیز ہُوں
خُوں میں بہے ہے درد کہ پِی نے دِیا مُجھے

دامن سِیا ہے چاکِ گریباں بھی سی لِیا
ضِد پر تھا دِل نے چاک نہ سِینے دِیا مُجھے

ہنسنے کا فن ہے پاس تو کیوں ہار مان لُوں
یہ گُر اُمید آپ ہی کی نے دِیا مُجھے

ہوتی ہیں بات بات پہ آنکھیں جو تر مِری
احساس ایسا دِل کی لگی نے دِیا مُجھے

جِس نے جہاں بھی چاہا نوازا حُضُور نے
اِنعام، مُجھ کو لا کے مدِینے، دِیا مُجھے

حسرتؔ شہد بھی نوچ کے ہونٹوں سے لے گیا
کب زہر اُس نے شوق سے پِینے دِیا مُجھے

Rate it:
Views: 431
03 May, 2023
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL