چار دن کی پے

Poet: Rasheed Hasrat By: Rasheed Hasrat, Quetta

پرندہ قید ہو گا یہ رہائی چار دن کی ہے
یہی سچ ہے کہ پنجہ آزمائی چار دن کی ہے

ہؤا کیا پانچویں دن کا فسانہ گول کر ڈالا
فقط فرضی کہانی ہی سنائی چار دن کی ہے

ستمگر ظلم ڈھاتا ہے کوئی صبر آزماتا ہے
تکبر چار دن کا ہے، دہائی چار دن کی ہے

پڑا ہے آنکھ پر پردہ ہماری، زندگانی کا
طوالت جس قدر ہو پھر بھی بھائی چار دن کی ہے

پھر اس کے بعد جانے تم کہاں ہو ہم کہاں ہوں گےل
یییدمممڈہمارے بیچ میں یہ آشنائی چار دن کی ہے

الگ ہو گا تو یہ مخلوق تجھ سے خوب نمٹے گی
امیرِ شہر تک تیری رسائی چار دن کی ہے

کرے ہے کوئی دعویٰ پاکبازی کا تسلسل سے
کھلے گا اس کا چہرہ، پارسائی چار دن کی ہے

بچھڑ کر رہ گئے جن سے ملیں گے پھر قیامت میں
کہ دنیا ختم ہو گی، یہ جدائی چار دن کی ہے

کہوں فردوس کا حسرتؔ تمہیں آسان سا نسخہ
ہمیشہ کے لیئے سکھ، بس کمائی چار دن کی ہے

Rate it:
Views: 66
07 Feb, 2026
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL