چاند رات
Poet: وقاص خالد By: وقاص خالد, Rawalpindiچاند رات کو تجھے خود یہ چوڑیاں پہناہوں میں
جی چاہتا ہے کہ تجھے خود سنواروں سجھاہوں میں
مہندی کی خوشبو کے ساتھ تیری سانسوں میں اُتروں
ہو ایسا تیری ہتھیلیوں میں خود کو بکھراہوں میں
جیسے ہوا آتی ہے جیسے چاندنی آتی ہے گھر تیرے
پتہ تجھے نہ چلے اِس انداز سے آہوں میں
خوشی کی طرح تیری ذات میں راہوں ہر لمحے
تیرے چہرے پہ کِرن سی بن کر مُسکراہوں میں
تیرے دل میں سما جاہوں کہ ایسا ہو جائے
کبھی دھڑکن بن کے تیرے دل کو دھڑکاہوں میں
جو کھنکتی ہیں چمکتی ہیں تیری نازک کلائیوں میں شمس
ہو ایسا کہ وہی چوڑیاں بن جاہوں میں
More Love / Romantic Poetry






