چاند کی چاندنی اور انتظار

Poet: Syed Araick Hussain By: Syed Araick Hussain, Sargodha

یہ جو قدم قدم پر بچھڑجانےکا خوف ھے
یہ ایک ایسا سانپ ھے
جو گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ ڈستا ھے
بہت تکلیف دیتا ھے

تری آرزو
تری جستجو
تری تمنا
ترا خیال

یہ بلکل ایسا ھے جیسے ایک باغباں،
باغ کے پھولوں کا نگہباں ہوتا ھے
تری تمنا ویسی ہی ھے
جیسے ریگیستان میں مسافر کو پانی کی تلاش ھو

مجھے بہت دور روشنی کی چمک نظر آ رہی ھے
بہت دور
مگر
مگر مجھے ڈر ھے کے کہیں
یہ چاند کی چاندنی نہ ھو جو لا حاصل ھے
نہ ملی، نہ کسی کو مل سکتی ھے

مجھے تو وہ روشنی درکار ھے
جو میری زندگی کی تاریک راہوں کو روشن کر دے
میرے دل میں اجالا کر دے
ابھی میں انتظار میں ھوں

میرے لیے دعا کرنا

Rate it:
Views: 1351
26 Apr, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL