چاندنی
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreمعجزہ تُو بھی کوئی دِکھا۔۔۔۔۔۔۔۔چاندنی
اُس کے چہرے سے پردہ ہٹا۔۔۔۔چاندنی
خامشی چاندنی ہے صَدا ۔۔۔۔۔۔۔چاندنی
ہے میرے یار کی ہر ادَا ۔۔۔۔۔۔۔چاندنی
ُگل کدہ چاندنی مے کدہ ۔۔۔۔۔۔۔چاندنی
اُس کے دَم سے ہے ساری فَضا ۔۔۔چاندنی
اُس کی یادوں سے روشن ہے ۔۔میرا جہاں
ہر طرف ہے اُسی کی ضیاء ۔۔۔۔۔۔چاندنی
چاندنی ہی کی اَفشاں کھلی ہے ۔۔۔۔۔وہاں
اور ہاتھوں پہ ہے وہ حِنا ۔۔۔۔۔۔۔چاندنی
چاندنی ہی میں لپٹا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔تمام
پیراہن چاندنی ہے ردا ۔۔۔۔۔۔۔چاندنی
چاندنی میں ُگندھاہے۔۔۔۔۔ وہ سارا بدن
اوراُس پہ یہ شرم و حَیا۔۔۔۔۔۔۔چاندنی
حُسن ہی حُسن ہے۔۔ لُطف ہی لُطف ہے
اُس کے چہرے پہ کھِلتی ہے کیا۔۔ چاندنی
بھینی بھینی سی خُوشبُو ہے ۔۔پھیلی ہوئی
کس نے کھولی ہیں زُلفیں بتا ۔۔۔۔چاندنی
چاندنی تم کو ہے واسطہ۔۔۔۔۔۔۔ چاند کا
کچھ میرے چاند کی بھی دِکھا ۔۔۔۔چاندنی
نور اُترا ہو جس میں میرے ۔۔۔۔۔یار کا
جام ایسا بھی کوئی پلا ۔۔۔۔۔۔۔۔چاندنی
درد بننے لگے یاد محبوب ۔۔۔۔۔۔۔۔کی
اِس قدر بھی نہ ہم کوسَتا ۔۔۔۔۔۔چاندنی
کیوں نہ دل سے لگاؤں میں بڑھ کے اِسے
درد بھی تو ہے اُس کی عطا۔۔۔۔۔چاندنی
لمحہ لمحہ تڑپ دل کی ۔۔۔۔۔۔بڑھنے لگی
حشر کر دے نہ دل میں بَپا ۔۔۔۔چاندنی
خون دے دے کے روشن کیا ہے اِسے
بجھ نہ جائے یہ دل کا دیا ۔۔۔۔۔چاندنی
کیوں جلاتی ہو جسم و دل و جان۔۔۔ کو
ہم نےکی ہےبھلا کیا خطا ۔۔۔چاندنی
پاس ہو وہ اَگر نور ہی نور۔۔۔۔۔ ہے
آگ ہوتی ہے اُس کے بِنا۔۔۔چاندنی
روح بن کے اُترتی چلی ہی۔۔۔۔گئی
سازِ فطرت پہ نغمہ سِرا۔۔۔۔چاندنی
ہم فقیروں کی ہے تیرے حق میں دعا
تیرے ہونٹوں پہ کھیلے سدا ۔۔چاندنی
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






