چاندنی رات میں اس نے مجھے تنہا دیکھا
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillایک ہی چھت تلے صدیوں کا فاصلہ دیکھا
بیچ رشتوں کے اناؤں کا سلسلہ دیکھا
ہر کوئی وقت کے صحراوں میں ہے سرگرداں
چاند کے پاؤں میں بھی میں نے آبلہ دیکھا
سچ کہہ کر جو ڈالی نظر دوستوں کی طرف
سب کے ہاتھوں میں وہی زہر پیالہ دیکھا
اور پھر یوں ہوا کہ سارے ضبط ٹوٹ گئے
چاندنی رات میں اس نے مجھے تنہا دیکھا
خودبخود جاگ اٹھی سینے میں کانٹوں کی چبھن
جب بھی گلشن میں کوئی پھول آپ سا دیکھا
تیری بے اعتنائی کا کبھی ادراک کیا
ان کہی داستانوں کا کبھی لہجہ دیکھا
تیرے احساس کی وسعت کا جب بھی ذکر چھڑا
دم بدم چاند ستاروں کا سلسلہ دیکھا
اس سمے تیری عنایات بہت یاد آئیں
جب کوئی کھیت پیاسا لب دریا دیکھا
مر گیا تھا جو رند مفلسی میں فاقوں سے
اس کے مرقد پہ لنگروں کا سلسلہ دیکھا
زندگی روٹھ گئی آپ کے نہ ہونے سے
لفظ تو لفظ ،معانی کو بھی بکھرا دیکھا
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






