چاہت کے کنول

Poet: maqsood hasni By: maqsood hasni, kasur

میں نے شاید پاپ کیا
اس کو اپنی سوچوں میں بسایا
دل سنگھاسن پر بیٹھایا
اس کے ہونٹوں کی تھرکت کو
محبت کا صحیفہ سمجھا
آنکھ کے اک اشارے پر
اپنی منشا کے رنگین پنے
کل کے حسین سپنے
تیاگ کے قدموں میں رکھے
کہ اس کی انا کو تسکین پہنچے
بشری چہرے پر
گلابوں کی رنگت رقصاں رہے
مسکانوں کی شرارت رہے
آب حیواں ڈھونڈنے نکلا
ہونٹوں کی جنبش کو
کن کا راز سمجھا
آکاش کے اس پار بیٹھا
اب یہ سوچے ہوں
سیڑھی کیچھنے کا
اس نے کیوں پن کیا
گلاب جوڑے میں ہو
ضروری تو نہیں
قبریں بھی تو
گلابوں کی راہ دیکھتی ہیں
چاندی بالوں پر
گیندا کب اٹھتا ہے
جھریوں کے خواب
گھر کے نہ گھاٹ کے رہتے ہیں
آکاش کے اس پار بیٹھا
اب یہ سوچے ہوں
چاہت کے کنول
جیون کی راہوں میں
اعتبار کیوں نہیں رکھتے
 

Rate it:
Views: 521
30 Nov, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL