چاہتوں کا عروج
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAکون ہوں میں، کیا ہوں، کس حال میں ہوں
پتہ کچھ چلتا نہیں مجھے، کس خیال میں ہوں
آئینے کے سامنے کھڑا ہوا جب، خود پہ پیار آنے لگا
تیری چاہت کا نشہ ہے، جانے کس خمار میں ہوں
تیرے ساتھ ساتھ جو چلتا ہے، تم سمجھتے ہو اسکو سایہ
وہ تو میں ہوں، ہاں زرا تیرے خدوخال میں ہوں
تم مجھے بھول جاؤ، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا
میں تو خون کیطرح رواں، تیرے جسم و جان میں ہوں
میری چاہتوں کا عروج ہے، نہ ہوگا کبھی انہیں زوال
جاوید یہ اور بات کہ عمر کے میں اب زوال میں ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







