چرچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: Ayesh khan By: Ayesh khan, karachiکبھی خواہشوں کی باتیں کبھی بندشوں کے چرچے
میری عمر رواں نے دیکھے کئی محبتوں کے چرچے
مجھے سکوں نہیں تھا کل تک مجھے چین نہیں ملا تھا
ہوا کیا ہے آج ایسا کہ ہیں راحتوں کے چرچے
بے درد نے دل لیا تھا عائش مجھ کو رنج دیا تھا
عام ہونے لگے ہیں میری قربتوں کے چرچے
میرے گرد تھا جو حصار وہ تو کب کا ٹوٹ چکا ہے
عائش کرتا ہے کیوں وہ مجھ سے اپنی الفتوں کے چرچے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






