یہ جو تُم بے سبب رُوٹھ جاتے ہو
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaیہ جو تُم بے سبب رُوٹھ جاتے ہو
لگتا ہے کہ اب تم جدائی چاہتے ہو
جُومتے ہوئے گاتے ہوئے مسکراتے ہوئے
سچ بتائو جانم کس سے مل کے آتے ہو
تری آنکھیں انکار کرتی ہے اُن سے
جو باتیں تم اب جاناں! بتاتے یو
گر سینے میں نہیں محبت ترے
پھر کیوں محبت سے سینے سے لگاتے ہو
جب ہوتا ہے مطلب تو ڈورے آتے ہو
مطلب نکلتے ہی بھول جاتے ہو
رُلانا تم نے جدا ہو کے بھی نہ چھوڑا
کبھی یادوں میں کبھی خوابوں میں رُلاتے ہو
میری قسمیں کھا کھا کے مجھے ہی کھا گئے تم
اب بتائو کس کے سر کی قسمیں کھاتے ہو
شعروشاعری کے ہنر سے بے خبر ہوں میں
تم کہہ کے شاعر مجھے میرا مزاق اُڑاتے ہو
جھگڑتے رہتے ہیں دل ودماغ میرے
تم جب تلخیوں کی آگ لگاتے ہو
توڑ کے تِیر میری چاہتوں کے نہال
صاحبہ جیسی مجھ سے وفا نباتے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






