چشم تر جام دل بادہ کشاں ہے شیشہ
Poet: بقا اللہ بقاؔ By: مصدق رفیق, Karachiچشم تر جام دل بادہ کشاں ہے شیشہ
محتسب آج کدھر جام کہاں ہے شیشہ
بزم ساقی میں جو آواز نہیں قلقل کی
اس قدر آج یہ کیوں پنبہ دہاں ہے شیشہ
محتسب سنگ لیے ہاتھ میں اور سوئے فلک
دم بہ دم چشم دہن سے نگراں ہے شیشہ
پانو رکھتا ہی نہیں ناز سے بالائے زمیں
کف بہ کف بزم میں ساقی کی رواں ہے شیشہ
ہے تراوش میں بقاؔ اس سے مے ناب سخن
ہے بجا کہیے اگر اپنا دہاں ہے شیشہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






