یہ رخ یار نہیں زلف پریشاں کے تلے
Poet: بقا اللہ بقاؔ By: مصدق رفیق, Karachiیہ رخ یار نہیں زلف پریشاں کے تلے
ہے نہاں صبح وطن شام غریباں کے تلے
کیا کریں سینہ جو ناصح سے چھپاتے نہ پھریں
داغ سے داغ ہیں کچھ اپنے گریباں کے تلے
آہ کی برق جو سینے میں چمکتی دیکھی
طفل اشک آ ہی چھپے دامن مژگاں کے تلے
دل میں آتا ہے کروں اے گل خنداں تجھ بن
بیٹھ کر گریہ کسی نخل گلستاں کے تلے
یوں نہاں داغ جگر آہ سے رکھتا ہوں کہ جوں
باد سے شمع چھپاوے کوئی داماں کے تلے
شیخ ڈرتا ہوں کہیں بیٹھ نہ جاوے یہ کنواں
مت کھڑا ہو تو عصا رکھ کے زنخداں کے تلے
نہیں ملنے کی بقاؔ ہم کو بجز کنج مزار
جائے آسودگی اس گنبد گرداں کے تلے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






