چشم محب
Poet: palak gopalganjvi By: عمران نظیر, گوپال گنج، بہاربڑی حسرتوں سے نہاراتها میں نے
بڑی آرزو سے پکارا تها میں نے
میلے نہ مجهے میرےامید کے شے
جسےخوبدل سے سنواراتهامیں نے
لٹ تو گئ وہ امیدوں کی نگری
چهن تو گیا وہ جہان زندگی سے
ہو تو گیا تنہا تنہا سا ہر پل
مل ہےکہاں ہرخوشی زندگی سے
وہ یادوں کی گلشن میں دیدار کرنا
خود سے بهی زیادہ تجهےپیار کرنا
کبهی جهوم کر ترے باہوں تلےمیں
اپنی محبت کو اظہار کرنا
یادوں میں تری کهویا کهویا سا ہرپل
خیالوں میں تجهکو بلاتا رہا تها
چرا کے تری نازنیں سی ادا سے
دل کے جہاں کو سجاتا رہا تها
یوں آتے ہو خوابوں میں آتےہی رہنا
خیالوں میں گلشن کهلاتے ہی رہنا
کرنا نہ کبهی یادوں میں آنکهیں نم
میرے هم سفر مسکرا تے ہی رہنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






