چلا گیا

Poet: Asar Jonpuri By: Muhammad Ijaz Siddiqui, Lahore pakistan

انسانیت کا دائمی دشمن چلا گیا
جو حزن بانٹتا تھا وہ محزن چلا گیا

کوئی نہیں جو مجرم عادی کو دے سزا
سامان گھر کا لوٹ کر رہزن چلا گیا

بغداد سے وہ داد تو حاصل نہ کر سکا
سرخ سرخ کر کے وہ آنگن چل گیا

گلشن کے پھول پھول گئے ہیں خوشی سے پھول
گلچین جو آج چھوڑ کے گلشن چلا گیا

سجنی نے مار مار کے سنجوا دیا بدن
جب ہی تو سجن چھوڑ کے ساجن چلا گیا

اے دوست اس سے قبل کہ بن آتی جان پر
وہ بوریا لپیٹ کے فوراً چلا گیا

زاغ سیاہ اڑ تو گیا چھ برس کے بعد
لیکن اجاڑ کر وہ نشیمن چلا گیا

اب اہل دل گائیں گے امن و امان کی فصل
صدر شکر و خون کا سیزن چلا گیا

Rate it:
Views: 891
11 Jul, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL