کاش

Poet: Rukhsana Noor By: Shazia Hafeez, Attock

مجھے اُس دیس لے جاؤ مجھے اُس دیس لے جاؤ
جہاں بے رنگ بھیگیں پیار میں رنگدار ہو جائیں

جہاں نظریں ہی پیکر کو بنا دیں خوبصورت اور
اندھیرے میں کرن خوشبو کی مانند پھیلتی جائیں
مجھے اُس دیس لے جاؤ مجھے اُس دیس لے جاؤ

جہاں پر بدلیاں دھیمے سروں میں گنگناتی ہوں
جہاں پہ روشنی اور رنگ کی بارش اترتی ہو

جہاں سب درد کی جھیلیں بھی ہنسی مسکراتی ہوں
مجھے اُس دیس لے جاؤ مجھے اُس دیس لے جاؤ

جہاں سورج تمازت چھاؤں چادر سے لپٹ جائے
جہاں صحرا بھی ساحل کی طرح پانی میں ڈوبا ہو

جہاں اظہار بھی خاموشی کی سب زبانوں میں
مجھے اُس دیس لے جاؤ مجھے اُس دیس لے جاؤ
مجھے اُس دیس لے جاؤ مجھے اُس دیس لے جاؤ

Rate it:
Views: 1027
10 Jul, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL