فسانے غم کے ہیں اور بھی سنانے کو
چلا آ کبھی تو بھی فرصت پاکر زمانے کو
پھرتا ھے مارا مارا گلی گلی در بدر۔
ہنوز کون سمجھائے اب تیرے دیوانے کو
کیوں افسردہ بیٹھے ہو گھر کے کونے میں
چلو باھر چلتے ہیں دل کے بہلانے کو
مجھکو کیا معلوم تھا کہ گھاٹے کا ھے سودا
میں تو گیا تھا وان دل کی قیمت بڑھانے کو
پہلے سے زمانے نے غم دیے ہیں بیشمار
اور تو بھی باز آیا نہیں چلا آیا صبر آزمانے کو
حیف !! اب کس طرح یقین دلاؤں میں اسے
جب خودسر روک رکھا ھے اس نے قسم اٹھانے کو
اسد زخم الفت کے اپنے بھر گئے کب کے
کیوں نہیں آتا کوئی تازہ نمک چھڑکانے کو