چلو پھر سے مسکرانے کی کوشش کریں
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK چلو پھر سے مسکرانے کی کوشش کریں
زندگی کے غم بھلانے کی کوشش کریں
مدت ہوئی یار جدا ہوے ہم کو۔۔۔
پھر سے میل جول بڑہانے کی کوشش کریں۔
زحے نصیب اپنے قسمت سے ملے ہو۔۔۔
آ ج کیوں نہ جشن مانے کی کوشش کریں ؟؟؟
پھر سے ہو جائے کوئی جام الفت کا !!!
چلو پھر پینے پلانے کی کوشش کریں۔۔۔
مل کر دیکھے تھے جو سپنے کبھی۔۔۔
حقیقی جامع انہیں پہنانے کی کوشش کریں۔
آئو پھر سے کریں دل کی دنیا آباد۔۔۔
پیار کا گھر سجانے کی کوشش کریں۔۔۔
آہ ! کب تک رہیںگے دور یار الگ ؟؟؟
باہم فاصلوں کو مٹانے کی کوشش کریں۔۔۔
وہ جو رشتہ یار باہم ٹو ٹا ھے۔۔۔
پھر سے اسے پختہ بنانے کی کوشش کریں۔
پیار کبھی بھی یار اسد مرتا نہیں ھے
پھر سے ایک ہوجانے کی کوشش کریں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






