اک ذرا برابر نہیں کہیں جا ء دل میں
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK کوئی امید بیتر دل میں جگائے رکھتے ہیں۔
ہم تیری یاد کو سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔
اک ذرا برابر نہیں کہیں جا ء دل میں
ہم یوں دل میں تمہیں بسائے رکھتے ہیں
ہم تیرے پیار میں اسقدر مدہوش رھتے ہیں۔
کہ بے خدی میں ساری دنیا بھلائے رکھتے ہیں۔
نام سنتےہی تمہارا چونک سے جاتے ہیں۔
ہم یوں تری چاھت میں خود گمائے رکھتے ہیں۔
دل کسی سورت نہیں چاھتا تمہیں رسوا کرنا۔
یعنی اپنی الفت کو ہم بھید بنائے رکھتے ہیں۔
لوگ کہتے ہیں اب پاگل دیوانہ ہم کو۔
ہم یوں تیرے عشق کا جنوں اپنائے رکھتے ہیں۔
تمہارے آنے کی امید نہیں چھوڑی دل نے۔
ہم پلکوں کو سر راہ اپنی بچھائے رکھتے ہیں۔
تم رگ جان ہو بس !!! اور کچھ کہنا نہیں۔
تم ہی کو زندگی اپنی ہم اسد بنائے رکھتے ہیں۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






