چلو کہہ دو تمہیں ہم سے پیار نہیں
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAکیا ہے جو پیار تو چھپاتے کیوں ہو
محفل میں میرا نام دُہراتے کیوں ہو
جل رہے ہو میرے پیار کی بھٹی میں
پھر ہجر کا درد چھپاتے کیوں ہو
خوابوں میں بھی اگر اقرار نہیں
تو خوابوں میں پھر آتے کیوں ہو
نظریں ملا کے شرما جاتے ہو تو
نظریں ہم سے ملاتے ہی کیوں ہو
مان لو! کہ دل ہمیں دے بیھٹے ہو
آگ کو اب برف بتاتے کیوں ہو
چلو کہہ دو تمہیں ہم سے پیار نہیں
یہ کہنے سے پھر گھبراتے کیوں ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







