چلے آؤ کہ ہم خاموش بیٹھے ہیں

Poet: محمد ہارون مغل By: محمد ہارون مغل, Karachi

چلے آؤ کہ ہم خاموش بیٹھے ہیں
یہ چہچہاتے پرندے گھونسلوں میں لوٹ بیٹھے ہیں

ستمگر آ بھی جاؤ اب ہمیں کچھ بات کہنی ہے
تمہارے گال کو چھو کر ہمیں ہر رات سہنی ہے

اداسی چھاگئی ہر سو تمہارے راستے ہیں روشن
تمہارے آنسوؤں کی دی گئی سوغات سہنی ہے

تمہاری مسکراہٹ کو ابھی بھی یاد کرتے ہیں
تمہاری جھیل سی آنکھوں پے اب بھی ناز کرتے ہیں

چلے آؤ کہ کچھ کہنے سے پہلے ہی
منہ اپنا موڑ نہ لیں ہم یہ دنیا چھوڑ نہ دیں ہم

ستارے آسماں سے تیرے لیے توڑ لائیں گے
ہوائیں تو جو کہے تیرے لئے موڑ لائیں گے

کچھ ایسا نہیں کہتے ہمیں کچھ اور کہنا ہے
ہمیں تم سے محبت ہے بس اتنی بات کرنی ہے

تمہارے انتظار میں اب تو دیکھو رو دیا ہم نے
بلا کی آندھی میں جیون اپنا کھو دیا ہم نے

چلے آؤ کہ ہم خاموش بیٹھے ہیں
چلے آؤ کہ ہم خاموش بیٹھے ہیں

Rate it:
Views: 1302
06 Sep, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL