چندا
Poet: قیس By: Qais, Islamabadکیا کہوں تمہیں
چندا یا کوئی دور چمکتا ستارہ
خواہشوں کے دھارے میں بہہ کر
ہوش کا دامن چھوڑ کر
کبھی کبھی تمہیں اپنا کہہ دیتا ہوں
پھر سوچتا ہوں... کیا کہوں تمہیں
چندا یا کوئی دور چمکتا ستارہ
سوچتا ہوں ترے میرے درمیاں
رشتہ اک نازک سا.. جانے کیسا پل رہا ہے
دھڑکنوں کی آہٹ میں دھڑکن
سانسوں کے تسلسل میں احساس
مگر پھر سوچتا ہوں... کیا کہوں تمہیں
چندا یا کوئی دور چمکتا ستارہ
اپنی ہستی تو فنا کر چلا
ساری کشتیاں جلا کر چلا
پھر ان اجنبی راستوں پر
اس سفر بےمنزل مقصد
بس تمہارا قرب، بس تمہارا ساتھ
مگر اے زاد سفر یہ تو بتا... کیا کہوں تمہیں
چندا یا کوئی دور چمکتا ستارہ
میرے پیار کو میری ضد سمجھنے والے
میرا طریق زمانے سے الگ
میری طرز دنیا سے جدا
میرے دل کی بستیاں میرا سب کچھ
میرے خوابوں کی دنیا کل کائنات
ان بستیوں کا مرکز
اس کائنات کا محور... اک ناداں
چلو ختم کریں یہ بےمقصد باتیں
راہ زندگی میں تنہا جنوں ہی تونہیں
وجود خاک میں تنہا دل ہی تو نہیں
بس اک آخری سوال جنوں
بس اک آخری تمنا دل
ارے او ناداں یہ تو بتا... کیا کہوں تمہیں
چندا یا کوئی دور چمکتا ستارہ
(قیس)
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






