چوڑیوں سے لڑے ہوئے ہو
Poet: fauzia By: fauzia, rahim yar khanتم ضد پہ اڑے ہوئے ہو میری چوڑیوں سے لڑے ہوئے ہو
لہجے میں اظہار برہمی باتوں میں کیوںکر مکر رہے ہو
کیوں جتاتے نہیں حق میرے کنگن پہ بہت ارزاں ارماں بےمول کر رہے ہو
اور تلخی نہ لاو الفاظ میں کہیں بھیگ نہ جائے کاجل
پلکوں کہ ساتھ ساتھ کیوں اسے نم کر رہے ہو
بھیگا آنچل جو شانے سے سرک رہا ہے
کیوں اسکی التجائیں بے وقعت کررہے ہو
تیری ہم سفر ہوں سارا سفر ہوں مجھ سے بچ کے چل رہے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






