چپکے سے پاس ہمارے تُم آ جاؤ
Poet: Hafeez Javed By: Shazia Hafeez, Attockفُرصت کے لمحوں میں جب یاد میری آتی ہوگی
دل مچلتا ہوگا،آنکھیں بھی بھر آتی ہو نگی
دسمبر کی کالی راتیں جب جب ڈستی ہونگی
تب میری یادیں سہارا تجھے دیتی ہونگی
آہوں کا اک طوفاں پھر برپا ہوتا ہوگا
اور پاس تمھارے نہ کوئی ہوتا ہوگا
ٹھٹھرتی راتوں میں دل تمھارا تڑپتا ہوگا
سسکیوں کی لڑی میں نام میرا بنتا ہوگا
چاہئے تمھیں میری بانہوں کا سہارا اب
نہیں اس کے سوا کوئی بھی چارا اب
چپکے سے پاس ہمارے تُم آ جاؤ
خود جلو نہ ہمیں اب اور جلاؤ
کوئی پوچھے بھی تو نہ کچھ بتلاؤ
جاوید کی بانہوں میں بس تُم آجاؤ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






