چھوٹی سی کہانی

Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAM

ہمارا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا
جو دھوپ میں چھاؤں تھا

وہاں اک الہڑ مٹیار رہتی تھی
مجھے تم سے محبت ہے ہر روز کہتی تھی

وہ مجھ کو بہاتی تھی میں اس کو بہاتا تھا
وہ مجھ کو چاہتی تھی میں اس کو چاہتا تھا

سکول سے جب میں آتا
اسے اپنے راسٹے میں پاتا

اس طرح دن ماہ میں بدلے ماہ سال ہوئے
اس کے پیار میں اپنے برے حال ہوئے
جب ہم پہ شباب آیا وقت پھر خراب آیا

اس کی شادی کی باتیں ہونے لگیں
ہماری چوری ملاقاتیں ہونے لگیں

گاؤں والوں کو ہم سے بیر ہو گیا
اس طرح ہمارا جینا قہر ہوگیا

اس کے بھائیوں نے ایک امیر سے اس کی شادی کر دی
ہمارے ارمانوں کی بربادی کردی

اس کی جدائی کا غم سہہ نہ پایا
میں پردیس چلا آیا

آج بھی جب اس کی یاد آتی ہے
مجھے خون کےآنسو رلاتی ہے

راتوں کو جگاتی ہے
میری زیست کو جہنم بناتی ہے

Rate it:
Views: 615
27 Sep, 2008
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL