چھپی ہے دل میں محبت کہوں تو کس سے کہوں
Poet: By: AB Shahzad, Mailsiچھپی ہے دل میں محبت کہوں تو کس سے کہوں
یہ دل لگی ہے حقیقت کہوں تو کس سے کہوں
کمال یار تھا دل توڑ جو گیا ہے مرا
کی یار نے ہے عداوت کہوں تو کس سے کہوں
جدائی ہجر نہیں سہہ یہ کرب پاؤں گا
گری ابھی ہے قیامت کہوں تو کس سے کہوں
لٹا دیا ہے سبھی خوش نہیں ہوا پھر بھی
اسے ہوئی نہ ندامت کہوں تو کس سے کہوں
بدل گیا ہوں نزاکت کسی کی دیکھ کے میں
نہیں رہی ہے شرافت کہوں تو کس سے کہوں
ابھی تلک نہیں بھولا میں لمس چھوئے تھے
نہیں گئی ہے رفاقت کہوں تو کس سے کہوں
نہیں ہے سنتا کوئی بات آج کل میری
خسارے میں ہے تجارت کہوں تو کس سے کہوں
نہیں سمجھ ابھی شہزاد وہ مجھے پایا
کہ پیار میں ہے صداقت کہوں تو کس سے کہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






