محبت میں یوں آزمایا

Poet: By: AB Shahzad, Mailsi

محبت میں کسی کو آزمایا یوں نہیں کرتے
ہو انجمن جب کسی اور کی بلایا یوں نہیں کرتے

کسی سےکرکے ہی احساں جتایا یوں نہیں کرتے
کسی کو نظروں سے اپنی گرایا یوں نہیں کرتے

دکھاتے یار مخلص تو نہیں ہیں دل کسی کا بھی
کبھی منزل محبت کی یہ پایا یوں نہیں کرتے

محبت میں عداوت آ گئی ہے اب کہاں سے یہ
کسی اپنے کو دشمن تو بنایا یوں نہیں کرتے

بتایا کیوں کسی نے بھی نہیں تکلیف آتی ہے
کبھی آئے مصیبت تو چلایا یوں نہیں کرتے

زمانے میں قدم اپنے ذرا اب سوچ کے رکھنا
لگا کر قہقے ساجن مسکرایا یوں نہیں کرتے

جدائی راس آتی ہی نہیں ہے پیار الفت میں
تعلق پیار الفت کے نبھایا یوں نہیں کرتے

نہیں ملتا ہے مخلص پیار قیمت دینی پڑتی ہے
کسی سے دل محبت میں لگایا یوں نہیں کرتے

کبھی آغازِ الفت میں نہیں شہزاد کرتے یوں
کبھی بھی پھول زلفوں میں سجایا یوں نہیں کرتے

Rate it:
Views: 686
26 Feb, 2021
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL