چہرہِ مہتاب پر اشکوں کی روانی یاروں

Poet: ارسلان حُسینؔ By: Arsalan Hussain, Karachi

چہرہِ مہتاب پر اشکوں کی روانی یاروں
جیسے چشمے سے نکلتا ہوا پانی یاروں

اسکی آنکھوں میں جو پھیلا ہوا کاجل دیکھوں
یوں لگے کھو گئ اندھیروں میں رانی یاروں

لب گلابوں کی طرح اور مہکتے ہوئے لفظ
کیوں نہ ہر بات پر ہو اسکی مَن مانی یاروں

گرم موسم میں کوئ دھوپ کی چارد اوڑھے
ایسی ہوتی تھی اکثر اسکی نادانی یاروں

تزکرہ محبت پر گر اس سے کبھی چھڑ جائے
تو اسکے ماتھے پر جھلکتی تھی پریشانی یاروں

سخاوت ایسی کہ کوئ مول نہ لگائے اسکا
اور دل ایسا کہ جیسے کوئ راج دھانی یاروں

ہائے! یہ حُسن ، یہ نزاکت ، یہ عداوت اس میں
اور پھر اُبھرتی ہوئ اسکی جوانی یاروں

مجھے لگتا ہے کہ سب منسلک تھی اس سے
وہ جو سنتا تھا میں پَریوں کی کہانی یاروں

میں کیسے بھول سکوں گا وہ منفرد چہرہ
وہ ہمیشہ یاد رہے گا زبانی یاروں

Rate it:
Views: 819
19 May, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL