چہرے پہ اس کے دیکھی نزاکت کمال ہے
Poet: اےبی شہزاد میلسی By: AB shahzad, Mailsiچہرے پہ اس کے دیکھی نزاکت کمال ہے
رہتا حجاب میں ہے شرافت کمال ہے
ہے زینہار دل میں حقیقت یہی ہے سچ
آشوب ہے ہرطرف یہ شرارت کمال ہے
چھوئے ہیں لمس پھول سجائے ہیں زلفوں میں
کیسے اسے میں چھوڑوں رفاقت کمال ہے
انکار کرتا ہی نہیں ایسا ہے دل کا وہ
مالوف میرے کی یہ محبت کمال ہے
بن مانگے دینا ہے جو عنایت ہے یار کی
رکھتا وہ اپنے دل میں رعونت کمال ہے
دن رات سوچتا ہوں یہی روز دوستو
صدمہ نہیں وہ بھولا عداوت کمال ہے
گرویدہ اس لیے ہوا ہوں میں دیکھ کر
شہزاد دیکھی اس میں ذہانت کمال ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






