مبتلا گیا ہوں میں کب سے عذاب میں
Poet: AB shahzad By: AB shahzad, Mailsiمبتلا گیا ہوں میں کب سے عذاب میں
میری گزر یہ زیست رہی ہے عتاب میں
بھولا نہیں سکا میں زیبا چہرہ اس لیے
آتا نظر ہے چہرہ تو اس کا کتاب میں
رب نے حسین خوب بنایا ہے دوستو
لگتا بہت حسین ہے ساجن حجاب میں
کوئی لگا نہ جانے اسے روگ ہجر کا
ہر وقت محو رہتا ہے سجنا شراب میں
جب بھی ملا ہے دیکھی رعونت ہی ہے مگر
دیکھا پے پہلی بار اسے تو عتاب میں
ملتے نہیں ہیں ذہن ہمارے تو دوستو
کوئی ہوئی ہے بھول ہمیں انتخاب میں
کیسے جواب دینا کروفر سے پوچھا تھا
پوچھا سوال ایسا نہیں تھا نصاب میں
یارانے بھول وہ گیا شہزاد برسوں کے
مشکل میں تھا نظر مجھے آیا ہے خواب میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






