ڈرتا ہوں
Poet: kashif imran By: kashif imran, Mianwaliماضی اپنا کرکے یاد آہ میں بھرتا ہوں
مسقبل کا سوچ کے آج میں ڈرتا ہوں
کھیلتے کودتے تھے جن گلیوں کوچوں میں
اُن میں ا ب نکلنے سے میں ڈرتا ہوں
اک تصویر خوبصورت سی بنا تو لی ہے مگر
اُس میں اب رنگ بھرنے سے میں ڈرتا ہوں
مانا کہ مجھے پیار ہے اُس سے مگر
سامنے اُس کے اظہار کرنے سے میں ڈرتا ہوں
بڑی مشکل سے سمیٹا ہوا ہے اپنی ذات کو
زندگی کی راہوں میں بکھرنے سے میں ڈرتا ہوں
مجھے یہ عشق لے ڈوبے نہ کہیں ، اس لئے
محبت کی راہ پہ چلنے سے میں ڈرتا ہوں
دو چار قدم چل کر چھوڑ نہ دے وہ کہیں مجھے
ہاتھ اس لئے اُس کا پکڑنے سے میں ڈرتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






