مجھ سے کیا ہو گئی خطا جاناں
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreمجھ سے کیا ہو گئی خطا جاناں
مجھ سے رہتے ہوکیوں خفا جاناں
میں تو اب بھی ہوں جانثار ترا
تو نے کیا کیا نہیں کیا جاناں
جس جگہ نقشِ پا ترے دیکھے
دل وہیں لَوٹنے لگا جاناں
کیا قیامت قریب آ پہنچی
دل میں اِک حشر ہے بپا جاناں
لوگ تو اَن کہی سمجھتے ہیں
تم پہ کب راز یہ کھلا جاناں
کیا کروں اعتبار اس دل کا
اب یہ میرا نہیں رہا جاناں
شاید اس سے ہی کچھ سکون ملے
آج اپنی غزل سنا جاناں
ترے دل نے سمجھ لیا ہو گا
مری آنکھوں نے جو کہا جاناں
جانے کس کس نے پڑھ لیا ہے اسے
ترے کاجل نے جو لکھا جاناں
میں نے دیکھا تھا ایک بار تمہیں
تُو نے کیا کیا دکھا دیا جاناں
تری ہر بات ہے قبول مجھے
ترا ہر ظلم ہے روا جاناں
مجھ کو محفل سے یوں اُٹھایا گیا
مرا کچھ بھی نہیں رہا یارو
ہو سکے تو معاف کر دینا
میں نے جو کچھ کہا سنا جاناں
اب تمہیں انتظار ہے کس کا
وہ تو دنیا سے چل بسا جاناں
مرتے مرتے بھی کہہ رہا تھا و سیم
خوش رہو تم یہاں سدا جاناں
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






