ڈھل جائے نہ یہ رات کوئی بات کیجئیے ( ترمیم شدہ )
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKڈھل جائے نہ یہ رات کوئی بات کیجئیے
پھر ہو نہ ہو یہ ساتھ کوئی بات کیجئیے
سویا ہے چاند اور ستارے بھی سو گئے
مہکے ہوئے حسین نظارے بھی سو گئے
سوئی ہے کائنات کوئی بات کیجئیے
پھر ہو نہ ہو یہ ساتھ کوئی بات کیجئیے
کرتا نہیں ہے وقت کسی کا بھی انتظار
لمحوں پہ ہو سکا نہ کسی کا بھی اختیار
ہے مختصر حیات کوئی بات کیجئیے
پھر ہو نہ ہو یہ ساتھ کوئی بات کیجئیے
بیٹھے رہیں گے آپ اگر ہم سے یوں خفا
کردے گا وقت پھر سے ہمیں آپ سے جدا
ہاتھوں میں لے کے ہاتھ کوئی بات کیجئیے
پھر ہو نہ ہو یہ ساتھ کوئی بات کیجئیے
ڈھل جائے نہ یہ رات کوئی بات کیجئیے
پھر ہو نہ ہو یہ ساتھ کوئی بات کیجئیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






