کنارے بھی سہاروں کی طرح سے چھوٹ جاتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیو یارککنارے بھی سہاروں کی طرح سے چھوٹ جاتے ہیں
تو انسانوں کو ہم کس لیے کیوں آزماتے ہیں
وجودِ زن سے گر قائم ہے رنگ ق بو زمانے گی
سرِ بازار کیوں بیٹی بہو کو ہم نچاتے ہیں
میری سوچوں میں وحشت ہے میری سوچوں میں حیرانی
زمیں پر خاک پتلے خاک کیوں اپنی سجاتے ہیں
گل و گلزار کیوں ہوگی زمیں ہم سے پریشاں ہے
زمیں کی گود میں ہم فصلِ نفرت ضو اگاتے ہیں
تخیل توڑ دیتا ہے در و دیوار وشمہ کے
یہاں انسان جب انسان کے لاشے گراتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






