کاش

Poet: Imtiaz Sharif Imtiaz By: RAAZ BHANEWALI, Sialkot

کاش میں تیرے گھر کا راستہ ہوتا
تو جب بھی طویل مسافت سے تھکی ہاری

مجھ تک پہنچنے کی بے تاب خواہش کرتی
مجھے دیکھ کر تو بہت خوش ہوتی

میں بھی اپنی چاہت پر ناز کرتا
ہر صبح تیری پائل کی آواز سنتا

پھر کسی حسن کی وادی میں کھو جاتا
کبھی چاندنی رات میں تمہاری خاطر جاگتا

کبھی تمہاری زلفوں کی چھاؤں تلے سو جاتا
مجھے میسر ہوتی تمہارے پیروں کی نرمی

کبھی سرد رت میں محسوس کرتا میں
تمہاری سانسوں کی خوشبودار شیریں گرمی

مجھ سے گلے ملتا تمہارا معصوم سا عکس
کبھی مجھے خوشی کے تہوار پہ سجایا جاتا

میں اپنے مقدر پہ جھومتا تو کبھی کرتا رقص
تو مجھے اپنی نظموں٬ غزلوں کا عنوان بناتی

زندگی کا ہر سفر تو مجھ پہ ختم کرتی
یونہی قربتوں میں پرسکوں زندگی گزرتی

کتنا اچھا ہمارے درمیاں واسطہ ہوتا
کاش میں تیرے گھر کا راستہ ہوتا

Rate it:
Views: 815
30 Apr, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL