کاش خوشی خوشی میں بھلا دوں تم کو
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, RAWALPINDIکاش خوشی خوشی میں بھلا دوں تم کو
دل کے پنجرے کو کھول کر اڑا دوں تم کو
تم خود ہی لوٹ آؤ گے میرے در پر جاناں
دل کی حالت اگر کھول کر بتا دوں تم کو
کتنے غم مل جائیں گے چاروں جانب
غم دل سے فقط اگر بھلا دوں تم کو
یہ سوچ کر دل نہ جلایا میں نے
بے احتیاطی سے کہیں اس میں نہ جلا دوں تم کو
جی چاہتا ہے دنیا سے الگ سا ہو کر
غم دنیا میں بھی غم دل سا سجا دوں تم کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






