ہم تیری محبت سے گلہ تو نہیں کرتے
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, RAWALPINDIہم تیری محبت سے گلہ تو نہیں کرتے
غم سارے زمانے کو ملا تو نہیں کرتے
یہ افسانہ نہیں یہ تو الم کی کہانی ہے
سارے لوگ زمانے کے یہ سنا تو کرتے
اب زخموں پہ مرہم کا کوئی اثر نہیں ہوتا
سمندر دریا سے کبھی بھرا تو نہیں کرتے
ترک الفت کی قسمیں بھلا کس نے نبھائی ہیں
کبھی رستے موجوں کے بدلا تو نہیں کرتے
درد کے ماروں کی بھی دوا ہے زمانے میں
زخم مگر دل کے روز سلہ تو نہیں کرتے
ملیں گے تمہیں اک دن اپنا یہ وعدہ ہے
جو محبت کرتے ہیں دور رہا تو نہیں کرتے
سجا کے تبسم اب دل راکھ بنا اپنا
سر عام شمع پہ جلا تو نہیں کرتے
وہ نام کیوں جانے زباں پہ آیا اشتیاق
ورنہ بات کبھی دل کی ہم کہا تو نہیں کرتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






