کبھی تو یاد آئیں گی
Poet: UA By: UA, Lahoreکبھی تو یاد آئیں گی
تمہیں بِیتی ہوئی باتیں
جنہیں تم بھول بیٹھے ہو
وہ باتیں جن کو سن کر تم
ہمیشہ مسکراتے تھے
تمہاری مسکراہٹ پر
صدا یہ دِل سے آتی تھی
سدا قائم رہے یہ دلکشی
دلکش تبسم کی
کہ جس کو دیکھ کر
یہ دِل ہمارا مسکراتا تھا
تمہارے مسکرانے پر
زندگی مسکراتی تھی
میری ویران آنکھوں میں
ستارے جگمگاتے تھے
تمہیں بھی یاد ہوں شاید
وہی بِیتی ہوئی باتیں
جنہیں تم بھول بیٹھے ہو
مگر اب تک ہمارا دِل
ہمیں بہلائے جاتا ہے
یہی دہرائے جاتا ہے
کبھی تو یاد آئیں گی
تمہیں بِیتی ہوئی باتیں
جنہیں تم بھول بیٹھے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






