کبھی جو مجھ کو تلاش کرنا
Poet: By: sajid naveed, lahoreکبھی جو مجھ کو تلاش کرنا
تو چاند راتوں کی چاندنی میں
گل چمن سے سوال کرنا
اداس کیوں ہو
کیوں اوس قطروں میں
اپنے آنسو چھپا رہے ہو
حسین موسم میں کس کی
یادوں سے دل کو اپنے ستا رہے ہو
گل چمن یہ سوال سن کر
تمہاری آمد کا حال سن کر
کہے گا کہ
تم جس کو کھوجتے ہو
وہ اس چمن کی تمام خوشبو چرا کے
اب اک نئے چمن میں مہک رہا ہے
اواس کر کے یہاں پہ ہم کو
کسی چمن میں چہک رہا ہے
گل چمن کا یہ حال سن کر
تمہیں لگے گا
میں بے وفا ہوں
اواس کلیوں کو چھوڑ کر میں
نئی بہاروں کو ڈھونڈتا ہوں
مگر حقیقت میں اس چمن کے
تمام پھولوں کی خواہشوں کا
حسین موسم کی بارشوں کا
اور ان کی تمام ناکام کاوشوں کا
نہ میرے دل پہ کوئی اثر ہوا تھا
نہ میرے دل پہ کوئی اثر ہوا ہے
میں آج بھی اک نئے چمن میں
پرانے قصے سنا رہا ہوں
جو میری محبت کا دیوتا تھا
میں آج بھی اس کو پوجتا ہوں
یقیں نہیں تو پلٹ کے دیکھو
وہیں کھڑا تھا
وہیں کھڑا ہوں
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






