کبھی کبھی
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississauga, Canadaکبھی کبھی جو کھلا با د بان یا دوں کا
نظر میں پھیل گیا بھیگی شام کا منظر
و ہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں ، و ہ ر یت اور ساحل
نہ راستے کی خبر تھی نہ ہوش منز ل کا
بس ا یک پلَ کو سمندر سا حال تھا د ل کا
ہو ا نے جھک کے جو لہروں کا ہاتھ چو م لیا
تو بنَ گیا لب و رخسار ر یت ساحل کا
مجھے پتہ نہ چلا مجھ کو کیا ہوا ، شاید
بد ن میں پھیل گیا زہر تیرے کاجل کا
و ہ راستے ، و ہ ہو ا ئیں ، و ہ ر یت اور ساحل
خیال و خواب میں رہ رہ کے جھلملا تے ہیں
ا کیلا پا ئیں تو میرے قر یب آ تے ہیں
ا گر چہ لہجہ بڑا ہے اُداس یا دو ں کا
بڑا حسین ہے مخمل لباس یا دو ں کا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






